بنگلورو، 18/فروری(ایس او نیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے جمعہ کواپنی میعاد کا آخری بجٹ اسمبلی میں پیش کیا - انہوں نے 402کروڑ روپے کے منافع کا بجٹ پیش کرتے ہوئے جہاں اپنی پیٹھ تھپتھپائی وہیں اپوزیشن نے بجٹ کی کمیوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی بجٹ ہے-بومئی نے سال برائے 2023-24 کے بجٹ کا حجم 3,09,182 کروڑ روپئے رکھا ہے-مختلف ذرائع سے 3,03910کروڑ روپئے آمدنی ہوگی- وہیں اقلیتوں کیلئے تمام مدوں میں بجٹ میں صرف 1229 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں- پچھلے سال اقلیتوں کیلئے 1115 کروڑ روپئے مختص کئے تھے اس مرتبہ صرف 114 کروڑ روپئےاضافہ کیاگیا ہے- جبکہ پچھلی کانگریس حکومت میں سدارامیا نے اقلیتوں کیلئے بجٹ میں تقریباً 3 ہزار کروڑ روپئے فراہم کئے تھے گزشتہ چار سال کے دوران اگر اقلیتوں کیلئے دئیے جا رہے بجٹ کا جائزہ لیاجائے تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس میں برابر کمی آرہی ہے۔ ریاست میں جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالاہےاقلیتوں کےبجٹ میں مسلسل کٹوتی ہی کی جارہی ہے-
ذرائع کے مطابق پچھلے سال اقلیتوں کیلئے بجٹ میں 1115 کروڑ روپئے مختص تو کئے تھے لیکن یہ پوری رقم خرچ ہی نہیں ہوئی اس کی اہم وجہ متعلقہ اعلیٰ افسروں نے اسکیموں کیلئے شرائط سخت بنادیں یا رکاوٹیں پیدا کردیں-اس کیلئے محکمہ اقلیتی بہود کے سابق سکریٹری منی ونن کو اہم ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے-
صرف کرناٹک ہی میں نہیں مرکز میں بھی اقلیتوں کا بجٹ کافی حد تک کم کردیا گیا اورکئی اسکیموں کو ختم ہی کردیا گیا- اقلیتوں کے ساتھ یہ ناانصافی مرکز اور ریاست میں برابر جاری ہے- اس تعلق سے عوام یہی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ دونوں طرف بی جے پی کی حکومت ہے، جو اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کے لئے اقلیتوں کو سینہ ٹھونک کر دبانا چاہتی ہے۔
وزیراعلیٰ بومئی نے امسال بجٹ میں اقلیتوں کیلئے جوفنڈ مختص کیا ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے -بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلبا کیلئے بلاسود 20 لاکھ روپئے تک کا قرضہ دیا جائے گا- آئی بی ایم میں صنعت کی تربیت کیلئے اقلیتی خواتین گریجویٹس کیلئے 3 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اس سے 300 گریجویٹس خواتین کو فائدہ ہوگا- وقف املاک اور قبرستانوں کی ترقی کیلئے 20 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں - مائنارٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کیلئے 110 کروڑ فراہم کئے گئے ہیں -کہا گیا ہے کہ 306 کروڑ روپئے کاگرانٹ دستیاب ہے جس کا استعمال مختلف اسکیموں کیلئے کیا جائے گا-
سابق وزیربرائے اقلیتی بہبود ورکن اسمبلی تنویر سیٹھ نے ریاستی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس حکومت سے اقلیتوں کیلئے اچھی امید کی ہی نہیں جاسکتی،یہ ایک رسمی بجٹ ہے -اگلے تین ماہ میں اسمبلی انتخابات کے بعد آنے والی حکومت اصل بجٹ پیش کرے گی- جس میں اقلیتوں کو زیادہ بجٹ ملنے کی امید ہے - انہوں نے بتایا کہ سدارامیا نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس کے پہلے بجٹ ہی میں اقلیتوں کو 5ہزار کروڑ فراہم کئے جائیں گے -اس حکومت نے اقلیتوں کی کئی اسکیموں کو ختم ہی کردیا ہے -